بھارت کے تحقیقی ادارے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارتی قومی اسمبلی میں موجود 93فیصد ارکان کروڑ پتی یا ارب پتی ہیں۔ سب سے زیادہ ایسے ارکان حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں جن کی تعداد کل 240میں سے235 ہے، صرف 5 ارکان کے اثاثے 1 کروڑ روپے سے کم ہیں۔ عام بھارتی بدحال ہیں لیکن مودی کی تان پاکستان دشمنی پر ٹوٹتی ہے تاکہ عوام کا رخ ان کی جانب نہ ہو جائے۔ بھارت میں اب جمہوریت الیکشن لڑنے والوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ لہٰذا حکومتی نظام کو اصلاحات کی نہیں بلکہ اسے کرپٹ امرا کے چنگل سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی غربت، بیروزگاری اور مہنگائی سے نجات پا سکے۔













