اردن، انڈونیشیا، ترکیہ،اورکے وزرائے خارجہ نےکے شہریوں کیلئے رفح کراسنگ کو یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔کے مطابق وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا اورصدرکے پیش کردہ منصوبے پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا جس میں رفح کراسنگ کو دونوں اطراف میں کھلا رکھنے، عوام کی آزاد نقل و حرکت یقینی بنانے اور کسی بھی رہائشی کوغزہ کی پٹی چھوڑنے پر مجبور نہ کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ نےصدرکے خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہپلان کو بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے مکمل طور پر نافذ کیا جائے تاکہ امن و سلامتی قائم ہو اور علاقائی استحکام کے بنیادی ستون مضبوط ہوں۔
اس سلسلہ میں وزرائے خارجہ نے امن معاہدے کو مکمل برقرار رکھنے، شہریوں کی مشکلات کم کرنے، رفح کراسنگ کے ذریعے انسانی امداد کی غیر مشروط رسائی کو یقینی بنانے، بحالی اور تعمیرنو کے اقدامات شروع کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کےمیں ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کیلئے حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے میں سیکورٹی اور استحکام کا نیا دور شروع ہو سکے۔














