2025 میں دنیا کے 25 امیر ترین خاندانوں کی فہرست جاری

نیویارک: امریکی جریدے بلوم برگ نے 2025 میں دنیا کے 25 امیر ترین خاندانوں کی فہرست کی ہے اور اس برس ایک بار پھر وال مارٹ سپر مارکیٹ کا مالک والٹن خاندان سرفہرست ہے گذشتہ برس اس خاندان کے اثاثوں کی کل مالیت 432 ارب ڈالر تھی جس میں اس برس 81 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، دوسری جانب اس سال سعودی عرب کے شاہی خاندان ”آل سعود“ کی دولت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور بلوم برگ کی مرتب کردہ اس فہرست میں یہ خاندان اب تیسرے نمبر پر آ گیا ہے گذشتہ برس کی فہرست میں سعودی شاہی خاندان چھٹے نمبر پر تھا۔صرف یہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین خاندانوں کی اس فہرست میں پہلے پانچ خاندانوں میں سے تین کا تعلق عرب دنیا سے ہے اس کے علاوہ اس فہرست میں انڈیا کا امبانی خاندان آٹھویں نمبر پر موجود ہے اس فہرست میں مزید خاندانوں کے نام بھی شامل ہیں اس تحریر میں ہم اس فہرست میں شامل پہلے 10 خاندانوں کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے اور ان کے امیر ہونے کا راز کیا ہے والٹن خاندان تقریباً وال مارٹ چین کے 44 فیصد سٹورز کا مالک ہے اور یہی سپر مارکیٹ ان کے پاس موجود دولت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔وال مارٹ کے دنیا بھر میں 10,750 سٹورز ہیں اور وہ ہفتہ وار بنیادوں پر 27 کروڑ کسٹمرز کو اپنی خدمات پیش کرتے ہیں وال مارٹ کے بانی سیم والٹن نے انتہائی دانشمندی سے اپنی دولت تمام بچوں میں تقسیم کر دی تھی تاکہ کاروبار پر خاندان کی گرفت ہمیشہ مضبوط رہے بلوم برگ کے مطابق وال مارٹ کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثوں کا تحفظ کیا اور ایسے کاروباری معاہدے کیے ہیں جس سے ان کی دولت میں کمی نہ آئے.

متحدہ عرب امارات کے” آل نہیان “ کے بڑے کاروباری منصوبوں میں بیشتر تیل، انڈسٹریز سے متعلقہ ہیں اور خاندان کی دولت کا مجموعی تحمینہ335 ارب امریکی ڈالر ہے امارات کے حکمراں آل نہیان خاندان کی تمام دولت کا سبب دراصل تیل کا کاروبار ہے بلوم برگ کی فہرست میں تیسرے نمبر پر سعودی عرب کا ”آل سعود “خاندان “ہے ان کی دولت کا زیادہ حصہ بھی تیل انڈسٹری سے جڑا ہے خاندان کی مجموعی دولت کا تخمینہ 213 ارب ڈالر ہے گذشتہ برس کی نسبت اس سال آل سعود خاندان کی دولت میں خاصہ اضافہ دیکھا گیا بلوم مبرگ کی گذشتہ سال کی فہرست کے مطابق اس خاندان کے پاس 140 ارب ڈالر کے اثاثے تھے جن میں اس برس 73 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا۔

سعودی عرب کے شاہی خاندان کی دولت کی بنیاد بھی دراصل تیل کا کاروبار ہے بلوم برگ نے اس خاندان کی دولت کا اندازہ گذشتہ 50 برسوں میں اس کے اراکین کو شاہی خزانے سے کی جانے والی ادائیگیوں سے لگایا شاہی خاندان کے ایک ارب سے زیادہ کے اثاثے صرف ولی عہد محمد بن سلمان کے کنٹرول میں ہیں چوتھے نمبر پر قطر کا حکمران ال ثانی خاندان ہے جس کی مجموعی دولت 199 ارب امریکی ڈالرہے ال ثانی خاندان کے مفادات تیل اور گیس کے کاروبار سے ج±ڑے ہیں اس خاندان کے تقریباً تمام ہی افراد حکومت میں بڑی سیاسی ذمہ داریوں پر فائز ہیں اور متعدد شعبہ جات میں انڈسٹریاں چلا رہے ہیں یہ ایک بہت بڑا خاندان ہے اور ملک کی حکمرانی اس کی چند شاخوں کے پاس ہے۔

پانچویں نمبر پر فرانس کا ایغمیز خاندان ہے جس کی مجموعی دولت کا تخمینہ 184 ارب ڈالر ہے ”ایغمیز“ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فیشن کمپنیوں میں ہوتا ہے اور اس وقت اس کے مالک خاندان کی چھٹی پشت کے تقریباً 100 افراد اس کاروبار کو آگے بڑھا رہے ہیں اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایکسل ڈومس ہیں. فہرست میں چھٹے نمبر پر امریکا کا ”کوک“خاندان ہے جس کی دولت 150 ارب ڈالر ہے کوک آئل کمپنی چار بھائیوں فریڈرک، چارلس، ڈیوڈ اور ولیم کوک کو اپنے والد فریڈ کوک سے ورثے میں ملی تھی لیکن پھر اختلافات کے سبب صرف چارلس اور ڈیوڈ ہی اس کاروبار سے منسلک رہ پائے اب اس خاندان کے متعدد کاروبار ہیں جن میں تیل، انرجی، کیمیکل، معدنیات، فنانس، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے منسلک کمپنیاں شامل ہیں.

دنیا کے ساتویں امیر ترین خاندان ”مارس فیملی“کا تعلق بھی امریکا سے ہے جن کی دولت کا تحمینہ143 ارب ڈالرہے مارس کے مشہور ہونے کی سب سے بڑی وجہ چاکلیٹ مصنوعات ہیں جن میں ایم اینڈ ایم، ملکی وے اور سنِکر چاکلیٹ شامل ہیں تاہم کمپنی کے پاس آنے والے آدھے سے زیادہ منافع کا سبب اس کی پالتو جانوروں کے لیے بنائی جانے والی مصنوعات ہیں. آٹھویں نمبر پر بھارت کا امبانی خاندان ہے ریلائنس انڈسٹریزکے مالک اس خاندان کی دولت 105 ارب ڈالرہے م±کیش امبانی دنیا کی سب سے بڑی تیل کی ریفائنری کے انچارج ہیں وہ ایک 27 منزلہ محل نما عمارت میں رہتے ہیں جسے دنیا کی سب سے مہنگی رہائشی عمارت بھی تصور کیا جاتا ہے انہیں اور ان کے بھائی کو یہ کاروبار اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا 2024 میں م±کیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی شاہانہ شادی نے دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بنائی تھی اور کئی دن تک جاری رہنے والی تقریبات میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایونکا ٹرمپ اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے بھی شرکت کی تھی.

بلوم برگ کی فہر ست میں نویں نمبرپر فرانس کا ”شانیل“خاندان ہے جس کی مجموعی دولت کا تخمینہ85 ارب ڈالرہے الین اور جرارڈ ورتھیمر کی دولت کا راز کوکو شانیل فیشن کمپنی ہے جس کی بنیاد ان کے دادا نے 1920 کی دہائی میں پیرس میں رکھی تھی یہ خاندان نہ صرف فیشن ہاؤس کا مالک ہے بلکہ ان کے پاس دنیا کے پاس مہنگے ترین ریس کے گھوڑے اور انگور کے باغات بھی ہیں اس خاندان کی دولت میں گذشتہ برس کے مقابلے میں تین ارب ڈالر کی کمی آئی ہے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال ان کے اثاثوں کی کل مالیت 88 ارب ڈالر تھی لیکن اس کے باوجود گذشتہ برس کی طرح یہ خاندان اب بھی فہرست میں نویں نمبر پر ہی براجمان ہے.

فہرست میں دسویں نمبر پر کینیڈا کا”تھامسن خاندان “ہے جس کی دولت 82 ارب ڈالرہے تھامسن خاندان کے پاس تھامسن روئٹرز کمپنی کے 70 فیصد حصص ہیں کینیڈا کے امیر ترین خاندان پر دولت کے دروازے 1930 کی دہائی میں اس وقت کھلے جب روئے تھامسن نے انٹاریو میں پہلا ریڈیو سٹیشن کھولا تھا ورتھیمر خاندان کی طرح گذشتہ برس کے مقابلے میں اس خاندان کی دولت بھی کم ہوئی بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال ان کے اثاثوں کی کل مالیت 87 ارب ڈالر تھی تاہم گذشتہ برس کی طرح یہ خاندان اب بھی فہرست میں دسویں نمبر پر ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Picture of Muhammad Ali

Muhammad Ali

Sub-Editor News

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent News

Entertainment