بنگلہ دیش: بغاوت کے بعد پہلا الیکشن، نئی سیاست

طارق رحمان تقریر کرتے ہوئے

بنگلہ دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم جمعرات کو شروع ہو گئی ہے۔یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی طویل آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔انتخابی مہم کے آغاز پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی امیدوار اور مقبول رہنما طارق رحمان کے ہزاروں حامیوں نے شمالی شہر سلہٹ کی سڑکوں پر ریلی نکالی۔ پارٹی جھنڈے تھامے شرکا طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ریلی میں شامل کارکنان طارق رحمان کی تصاویر اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ طارق رحمان دسمبر میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے اور وہ وزیر اعظم کے منصب کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ ریلی کے شرکا نعرے لگا رہے تھے: ’کیا ہمارے پاس لیڈر ہے؟ ہاں، ہمارے پاس لیڈر ہے۔دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت، جماعت اسلامی بھی دن کے اختتام پر دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرے گی۔

سترہ کروڑ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے جن میں 350 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ انتخابات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے بعد نئی قیادت کے ظہور کا سبب بن سکتے ہیں اور ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ علاقائی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوں گے۔یہ انتخابی عمل ایک غیر یقینی سکیورٹی صورتحال میں ہو رہا ہے جہاں گزشتہ ماہ حکومت مخالف احتجاج میں شامل ایک طالب علم رہنما کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

60 سالہ طارق رحمان بنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بی این پی کی قیادت سنبھالی ہے۔ خالدہ ضیا دسمبر میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر چکی ہیں۔بی این پی کے ایک سرگرم حامی 40 سالہ ہارون الرشید نے اے ایف پی کو بتایا: ’وہ اپنے والدین کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھائیں گے۔‘انہوں نے خالدہ ضیا اور ان کے شوہر، سابق صدر ضیا الرحمان کا حوالہ دیا جنہیں 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا۔دنیا کی بڑی مسلم آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل بنگلہ دیش میں روایتی طور پر سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کا آغاز سلہٹ سے کرتی ہیں جہاں صدیوں پرانا شاہ جلال کا مزار واقع ہے۔بدھ کی شب طارق رحمان کے مزار پر حاضری کے موقع پر حامیوں نے سڑکوں کے کنارے قطاریں بنا لیں اور ان کی انتخابی بس کے گزرنے پر نعرے لگائے۔دوسری جانب جماعت اسلامی دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے سربراہ شفیق الرحمان کے حلقے سے مہم کا آغاز کرے گی۔

اخوان المسلمون سے نظریاتی قربت رکھنے والی یہ جماعت کئی برس کی پابندیوں اور کریک ڈاؤن کے بعد دوبارہ عملی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔شیخ حسینہ کے انڈیا فرار ہونے کے بعد کئی اہم مذہبی رہنماؤں کو جیلوں سے رہا کیا گیا جبکہ مذہبی جماعتیں پہلے سے زیادہ متحرک نظر آ رہی ہیں۔طلبہ رہنماؤں کی قائم کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جس نے حکومت مخالف تحریک کی قیادت کی اور جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا ہے، وہ بھی ڈھاکہ میں اپنی انتخابی ریلی منعقد کرے گی۔26 سالہ انجینئر راقب الحسن شاون بی این پی کی ریلی کو ایک طرف کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے، انہوں نے کہا: ’میں نے ابھی ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ہم پہلے بھی وعدے سنتے رہے ہیں، لیکن وہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Picture of Muhammad Ali

Muhammad Ali

Sub-Editor News

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent News

Entertainment