امریکا کے بعد اب میکسیکو نے بھی بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکا کے بعد میکسیکو نے بھی چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والی متعدد مصنوعات پر پچاس فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔میکسیکو کے اس اقدام سے بھارت کی ایک ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی، صدر کلاؤڈیا شائن باؤم نے مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے ٹیرف کو ضروری قرار دیا۔میکسیکو نے ان ممالک سے درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے جن کے ساتھ اس کا کوئی تجارتی معاہدہ نہیں ہے۔ان ممالک میں بھارت، چین، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ یہ ڈیوٹیز ملکی صنعت اور مقامی پیداوار کو تحفظ دینے کے لیے نافذ کی جا رہی ہیں اور ان کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے ہوگا۔نئے ٹیرف سے متعدد اشیا پر 35 فیصد تک اضافہ ہوگا، تاہم سب سے زیادہ اثر آٹوموبائل سیکٹر پر پڑے گا۔ درآمدی ڈیوٹی 20 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں بھارت کی آٹو کمپنیوں خصوصاً فوکس ویگن، ہنڈائی، سوزوکی اور نسان کی ایک ارب ڈالر تک کی برآمدات متاثر ہونے کا امکان ہے۔ان کمپنیوں نے بھارت کی وزارتِ تجارت سے درخواست کی تھی کہ وہ میکسیکو پر موجودہ ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ انڈسٹری گروپ کے مطابق ٹیرف میں اضافہ براہِ راست بھارت کی آٹو برآمدات کو متاثر کرے گا جبکہ بھارت اس معاملے پر حکومت سے رابطے میں ہے۔













